ابنا:وائٹ ہاؤس کی جانب سے امریکی صدر کی ترکی کے وزیر اعظم کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں لی گئی تصویر میڈیا کو جاری کی گئی تھی جس میں انہیں بیس بال کی بیٹ کو ہاتھ میں پکڑے دکھایا گیا ہے۔ ترکی کی اپوزیشن جماعتوں نے امریکی صدر کے اس انداز گفتگو پر احتجاج کیا ہے۔
تُرک رکن پارلیمنٹ اور اپوزیشن جماعت ‘‘پیپلز ڈیموکریٹک’’ کے رہ نما متین لطفی بیدار کا کہنا ہے کہ اوباما کی بیس بال کی بیٹ ہاتھ میں لے کر بات کرنے سے یہ واضح پیغام مل رہا ہے کہ امریکی حکام کس طرح ہمارے وزراء کو احکامات دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیس بال کی بیٹ ہاتھ میں پکڑ ہمارے وزیر اعظم سے ٹیلیفون پر گفتگو ہماری قوم کی توہین ہے۔ اگر وزیر اعظم طیب ایردوآن نے یہ تصویر دیکھی ہے تو انہوں نے ابھی تک اس کا نوٹس کیوں نہیں لیا ہے۔

ترک اخبارات اور سوشل میڈیا میں بھی امریکی صدر کی مذکورہ تصویر پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ اخبار ‘‘حریت’’ میں ایک کالم نگار احمد حاقان نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ جس طرح کا طرز عمل امریکیوں کی جانب سے ہمارے ساتھ کیا جا رہا ہے، ہمیں بھی اسی طرح کا باوقار طرز عمل اختیار کرنا چاہیے’’۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ آئندہ ہمارے صدر امریکی صدر کے ساتھ بات کریں تو اسی طرح کی کوئی چیز ہاتھ میں پکڑ لیں اور اگلے دن اس کی تصویر اخبارات کو جاری کی جائے۔ بہتر ہے کہ ترک صدر اپنے ہاتھ میں چمڑے کی بیلٹ پکڑ لیں یا آٹے کا بیلنا ہاتھ میں رکھ لیں۔
.......
/169